ایک مغالطہ اور اس کا ازالہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کے معنے سمجھے بغیر اس کو حفظ کرنا اور اس کی تلاوت کرنا طوطے کی طرح رٹنے کے مانند ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں تو کیا ان کا یہ کہنا واقعی صیحح ہے ؟